حجاب پر سے پابندی ہٹانے، مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے کی بھی تلقین ، کشمیر والے بیان پر حکومت ہند کا سخت رد عمل
اسلام آباد،25؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) مسلم ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن کا ۴۸؍ واں اجلاس جو کہ پڑوسی ملک پاکستان کے اسلام آباد شہر میں منعقد ہوا تھا ختم ہو گیا ۔ اجلاس کے آخری دن ۵۷؍ مسلم ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں فلسطین ، میانمار اور ہندوستان کا خاص طور سے ذکر کیا گیا۔ ساتھ ہی اسلاموفوبیا پر قدغن لگانے پر بھی زورد یا گیا۔
اعلامیہ میں ہندوستان کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اپنے یہاں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کو یقینی بنائے۔ اجلاس میں شامل ۵۷؍ ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ ہم ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور عدم روا داری کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی حاشیہ بندی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ ’’ہم مسلمانوں کی شناخت پرہونے والے انتہائی ضرر رساں حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پرحجاب پرپابندی جیسے امتیازی قوانین کو منسوخ کرے،ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے۔‘‘ اسکے علاوہ اعلامیہ میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا گیا ہے۔ نیز فلسطین کے مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے اور۲؍ ریاستی فارمولےکے تحت کوئی راستہ نکالنے کی بات کی گئی ہے۔ نیز افغانستان کے بحران کو دور کرنے کیلئے جلد از جلد اس کےمنجمد اثاثوں کو ریلیز کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اجلاس کے افتتاحی سیشن میں پاکستان نے دانستہ مسئلہ کشمیر کو بھی چھیڑا تھا جس کے بعد دیگر مسلم ممالک نے بھی اس تعلق سے بیانات دیئے تھے۔ اس کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے خطاب میں کہا تھا ’’ ہم نے کشمیر مسئلے کے تعلق سے تمام مسلم ممالک کے موقف کو سنا اور ہم بھی یہی خیال رکھتے ہیں۔‘‘ اس پر حکومت ہند کی جانب سے سخت رد عمل جاری کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ٹویٹ کرکے کہا کہ’’ ہم چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی افتتاحی تقریب (او آئی سی اجلاس ) میںکی گئی تقریر میں ہندوستان کا غیر ضروری حوالہ دینے کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘ ارندم نے مزید لکھا ’’مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر سے متعلق مسائل خالصتاً ہندوستان کے اندرونی معاملات ہیں۔ چین یا دنیا کے کسی اور ملک کو اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان ممالک کو دیکھنا چاہئے کہ ہندوستان کسی بھی ملک کے اندرونی معاملے پر تبصرہ نہیں کرتا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ او آئی سی کے اجلاس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ جلد ہی وانگ یی ہندوستان کے دورے پر بھی آنے والے ہیں۔